چپ چاپ دکھ سہو نہ شکایت کرو اسے
کس نے تمہیں کہا تھا محبت کرو اسے
یہ کیا کہ ہر کسی سے ہیں اس کے ہی تذکرے
رسوا یوں سب کے سامنے اب مت کرو اسے
دنیا تو کہہ رہی ہے محبت فریب ہے
مر ہی نہ جائے وہ کہیں تیرے فراق میں
قربت کا کوئی لمحہ عنایت کرو اسے
دل کی شکستگی کا سبب وہ نہیں صفیؔ
اپنی خطا پہ تم نہ ملامت کرو اسے
صغیر صفی
No comments:
Post a Comment