محبت آگ بن جاتی ہے سینے میں نہاں ہو کر
تمنائیں جلا دیتی ہیں دل، چنگاریاں ہو کر
اِدھر بھی تم اُدھر بھی تم یہاں بھی تم وہاں بھی تم
یہ تم نے کِیا قیامت کی نگاہوں سے عیاں ہو کر
انہیں بھی داستانِ ہجر چپکے سے سنا ہی دی
سحر ہونے سے پہلے ہی گلابی ہو گئے آنسو
شفق پھولی ہماری داستانِ خوں چکاں ہو کر
چراغِ آرزو یوں جھِلملا کر بجھ گیا آخر
دمِ آخر کسی کی یاد آئی ہچکیاں ہو کر
خصوصیت کا طالبؔ ہوں عداوت ہو، محبت ہو
مجھی کو سب ستائے جائیے نا مہرباں ہو کر
طالب باغپتی
No comments:
Post a Comment