Thursday, 6 October 2016

محبت آگ بن جاتی ہے سینے میں نہاں ہو کر

محبت آگ بن جاتی ہے سینے میں نہاں ہو کر
تمنائیں جلا دیتی ہیں دل، چنگاریاں ہو کر
اِدھر بھی تم اُدھر بھی تم یہاں بھی تم وہاں بھی تم
یہ تم نے کِیا قیامت کی نگاہوں سے عیاں ہو کر
انہیں بھی داستانِ ہجر چپکے سے سنا ہی دی
سکونِ شامِ غم بن کر، ستاروں کی زباں ہو کر
سحر ہونے سے پہلے ہی گلابی ہو گئے آنسو
شفق پھولی ہماری داستانِ خوں چکاں ہو کر
چراغِ آرزو یوں جھِلملا کر بجھ گیا آخر
دمِ آخر کسی کی یاد آئی ہچکیاں ہو کر
خصوصیت کا طالبؔ ہوں عداوت ہو، محبت ہو
مجھی کو سب ستائے جائیے نا مہرباں ہو کر

طالب باغپتی

No comments:

Post a Comment