Thursday, 6 October 2016

ملنے سے گھبرائے لیکن خبر ہماری پل پل تھی

ملنے سے گھبرائے لیکن، خبر ہماری پل پل تھی
میں تو ادھورا منظر تھا اور اس کی یاد مکمل تھی
اس نے دل کے رستے میں بھی فکر کے پھول اگاۓ ہیں
خوش بو چاروں اور گئی،۔۔ تو محفل محفل ہلچل تھی
وقتِ رخصت دونوں چپ تھے، چپ کی چیخیں دور گئیں
اس کی آنکھیں بارش تھیں اور میری نظر بھی جل تھل تھی
دنیا آخر لے ہی آئی ان زہریلی راہوں پر
اک رستے پر کانٹے دیکھے دوسرے میں بھی دلدل تھی
آتے جاتے موسم دیکھے، منظرؔ! سب بے چین ہوۓ
اک ساعت آرام نہ آیا،۔ درد کی لہر مسلسل تھی

منظر نقوی

No comments:

Post a Comment