Friday, 7 October 2016

زمین کی سمت سفر پر نکل بھی سکتا ہے

زمین کی سمت سفر پر نکل بھی سکتا ہے
پہاڑ برف کا پگھلے تو چل بھی سکتا ہے
اسے یقین دلانے سے کچھ نہیں ہو گا
سفر سے پہلے ارادہ بدل بھی سکتا ہے 
ابھی تو وقت کا پنچھی ہے قید میں اپنی 
تڑپ کے ہاتھ سے اپنے نکل بھی سکتا ہے
یہ سا نحہ ہے کہ بخشے بہار نے کانٹے 
خزاں نصیب کا موسم بدل بھی سکتا ہے
نہ دیکھ اتنی حقارت سے ہم کو زہرہ جبیں 
چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے
قرارِ جاں ہے خلشؔ اب مگر خیال رہے 
قرار روگ کی صورت بدل بھی سکتا ہے

خلش بجنوری

No comments:

Post a Comment