منشور
نظامِ زر کا جو کہنہ طلسم توڑ گئے
وہ شاہراہ پہ نقشِ حیات چھوڑ گے
خراج لے کے رہیں گے اسی قیادت کا
ہمیں یقیں ہے کہ نوری سخر تو آئے گی
سراغ مل نہ سکے گا کہیں بھی ظلمت کا
یقین ہے نئی تحریک بن کے ابھرے گا
زمین بوس ہوا جو لہو صداقت کا
نہ چوشنے دو لہو اپنا اہلِ حکمت کو
انہیں بتا دو بھلا کیا ہے طاقتِ جمہور
نہ زرگروں کے خدا کی خدائی چلنے دو
جہاں میں عام کرو اپنے عدل کا منشور
عظیم تر مِرے محنت کشو! نہ گھبراؤ
بس اتحار کے مرکز پہ ایک ہو جاؤ
یہ عزم ایک نیا انقلاب لائے گا
یہ عزم ایک نیا انقلاب لائے گا
وہ شاہراہ پہ نقشِ حیات چھوڑ گے
خراج لے کے رہیں گے اسی قیادت کا
ہمیں یقیں ہے کہ نوری سخر تو آئے گی
سراغ مل نہ سکے گا کہیں بھی ظلمت کا
یقین ہے نئی تحریک بن کے ابھرے گا
زمین بوس ہوا جو لہو صداقت کا
نہ چوشنے دو لہو اپنا اہلِ حکمت کو
انہیں بتا دو بھلا کیا ہے طاقتِ جمہور
نہ زرگروں کے خدا کی خدائی چلنے دو
جہاں میں عام کرو اپنے عدل کا منشور
عظیم تر مِرے محنت کشو! نہ گھبراؤ
بس اتحار کے مرکز پہ ایک ہو جاؤ
یہ عزم ایک نیا انقلاب لائے گا
یہ عزم ایک نیا انقلاب لائے گا
نقاش کاظمی
No comments:
Post a Comment