Tuesday, 1 November 2016

غم کی فضا میں برسر تدبیر کون ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

غم کی فضا میں بر سرِ تدبیر کون ہے 
مجبوریوں میں گھر کے ہمہ گیر کون ہے
یہ کس نے دی اذان سرِ دشتِ کربلا 
سجدے میں زیرِ سایۂ شمشیر کون ہے
اس شان سے یہ کس کا نکالا گیا جلوس 
یہ پا برہنہ بستۂ زنجیر کون ہے
کس نے جہانِ خفتہ کو بیدار کر دیا 
دینِ نبیؐ کے خواب کی تعبیر کون ہے
اس دھوپ چھاؤں کا تو کوئی تجزیہ کرے
بدبخت کون، صاحبِ تقدیر کون ہے
وقفِ نظر ہے حادثۂ کربلا شہابؔ
خود سوچئے کہ لائقِ تعزیر کون ہے

شہاب دہلوی 

No comments:

Post a Comment