Tuesday, 1 November 2016

سفر کرتے ہیں ذوق کربلا بھی ساتھ رکھتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

سفر کرتے ہیں ذوقِ کربلا بھی ساتھ رکھتے ہیں
فنا کی راہ چلتے ہیں بقا بھی ساتھ رکھتے ہیں
اندھیروں کے سفر میں راہ روشن ہوتی جاتی ہے
نکلتے ہیں تو ہم اک اک دِیا بھی ساتھ رکھتے ہیں
ہمارے عہد کے اشراف کس مشکل میں آئے ہیں
انا ہی کم نہیں جھوٹی، انا بھی ساتھ رکھتے ہیں
جمال آرائی، ذوقِ نغمگی، حسنِ سخن سنجی
ہم اپنے شوق کی آب و ہوا بھی ساتھ رکھتے ہیں
ہم اپنی زندگی میں کشمکش مٹنے نہیں دیتے
دِیا بھی ساتھ رکھتے ہیں ہوا بھی ساتھ رکھتے ہیں

تابش الوری

No comments:

Post a Comment