Thursday, 3 November 2016

بہہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر

بہہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر 
ایک دریا کہ ہے کنارے پر
جو تناور تھا سب درختوں میں 
ٹکڑے ٹکڑے پڑا ہے آرے پر
پاؤں لٹکا کے جانبِ دنیا 
آؤ بیٹھیں کسی ستارے پر
آنے جانے کی سب کو جلدی ہے 
کوئی رکتا نہیں اشارے پر
عشق میں فائدہ نہیں ہوتا 
کام چلتا ہے یہ خسارے پر
کانپتی ہیں علامتیں ناصرؔ 
خوف طاری ہے استعارے پر

نصیر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment