تیری آنکھوں میں رت جگا تو نہیں
پوچھ خود سے تُو بے وفا تو نہیں
عرش سے فرش تک اداسی ہے
عرش تا فرش کربلا تو نہیں؟
جتنا سمجھا ہے مجھ کو اپنوں نے
سانس جاری ہے زوروشور کے ساتھ
مجھ کو جینے کی بد دعا تو نہیں
آئینہ دیکھ کے یہ پوچھتا ہوں
میں کہیں آپ سے مِلا تو نہیں
یہ جو میں در بدر بھٹکتا ہوں
میں کہیں خود کو ڈھونڈتا تو نہیں
تجھ سے بے تکلفی ہے مِری
تُو مِرا دوست ہے خدا تو نہیں
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment