Tuesday, 1 November 2016

تیری آنکھوں میں رت جگا تو نہیں

تیری آنکھوں میں رت جگا تو نہیں
پوچھ خود سے تُو بے وفا تو نہیں
عرش سے فرش تک اداسی ہے
عرش تا فرش کربلا تو نہیں؟
جتنا سمجھا ہے مجھ کو اپنوں نے
میں کوئی اس قدر برا تو نہیں 
سانس جاری ہے زوروشور کے ساتھ
مجھ کو جینے کی بد دعا تو نہیں 
آئینہ دیکھ کے یہ پوچھتا ہوں
میں کہیں آپ سے مِلا تو نہیں
یہ جو میں در بدر بھٹکتا ہوں
میں کہیں خود کو ڈھونڈتا تو نہیں
تجھ سے بے تکلفی ہے مِری
تُو مِرا دوست ہے خدا تو نہیں

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment