عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام
گہر ہی ایسا خزانے کھنگال کر دِیا ہے
غمِ حسین سے مجھ کو نہال کر دیا ہے
وہ ایک قافلہ جو لٹ لٹا کے آیا تھا
اسی نے مجھ کو بہت مالا مال کر دیا ہے
اس ایک بچے کے ہونٹوں کی مسکراہٹ نے
کرے گا یاد زمانہ جسے قیامت تک
حضور! آپ نے ایسا کمال کر دیا ہے
یہ صبر و ضبط، یہ فقر و غنا، یہ دیدہ وری
چراغ جو بھی دیا ہے، اجال کر دیا ہے
نکال لائے ہیں وہم و گماں سے مجھ کو منیر
خیال و خواب کو خواب و خیال کر دیا ہے
منیر سیفی
No comments:
Post a Comment