Wednesday, 2 November 2016

گہر ہی ایسا خزانے کھنگال کر دیا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

گہر ہی ایسا خزانے کھنگال کر دِیا ہے
غمِ حسین سے مجھ کو نہال کر دیا ہے
وہ ایک قافلہ جو لٹ لٹا کے آیا تھا
اسی نے مجھ کو بہت مالا مال کر دیا ہے
اس ایک بچے کے ہونٹوں کی مسکراہٹ نے
غرورِ تختِ شہی پائمال کر دیا ہے
کرے گا یاد زمانہ جسے قیامت تک
حضور! آپ نے ایسا کمال کر دیا ہے
یہ صبر و ضبط، یہ فقر و غنا، یہ دیدہ وری
چراغ جو بھی دیا ہے، اجال کر دیا ہے
نکال لائے ہیں وہم و گماں سے مجھ کو منیر
خیال و خواب کو خواب و خیال کر دیا ہے

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment