Wednesday, 2 November 2016

کوئی چراغ تخیل نہ میری راہ میں رکھ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

کوئی چراغِ تخیل نہ میری راہ میں رکھ
بس اک سلام کا گوہر میری کلاہ میں رکھ
اگرچہ تُو کسی سچائی کا مؤرخ ہے
یزیدِ عصر کو بھی دفترِ سپاہ میں رکھ
بکھیر صفحۂ قرطاس پر لہو کے حروف
قلم سنبھال کے مت دل کی خانقاہ میں رکھ
سمجھ سکے جو شہیدانِ حق کی تاجوری
جبینِ عجز کو تُو خاک پائے شاہ میں رکھ
علیؓ کے سجدۂ آخر سے حلقِ اصغر تک
ہر ایک تیرِ ستم مرکزِ نگاہ میں رکھ
وہی امامِ زماں جو ہیں سب پہ سایہ فگن
انہیں کے سایۂ دستار کی پناہ میں رکھ
مجھے وہ حریتِ فکر بھی دے حُر کی طرح
پھر اس کے بعد اسی لشکر و سپاہ میں رکھ
سلام و مرثیہ و نعت لے کے حاضر ہوں
انہیں کا بندہ سمجھ اپنی بارگاہ میں رکھ
تِرا یہ شاعر نقاشؔ تو ہے ذرۂ خاک
اسے غبار بنا کہ مہر و ماہ میں رکھ

نقاش کاظمی

No comments:

Post a Comment