Thursday, 1 December 2016

دل تھا شکستنی تو کیوں شکوہ سرا بہت ہوا

 دل تھا شکستنی تو کیوں شکوہ سرا بہت ہوا

ہاتھ سے آئینہ گرا،۔۔۔ شور پبا بہت ہوا

یوں تو فلک کی قید میں سب تھے مگر مِرے لیے

باعثِ رنج، حُجرۂ ہفت بلا بہت ہوا

درد کی ایک لہر اٹھی ساحلِ جاں ڈبو گئی

بھر گیا تا بہ لب سبُو، اور نشہ بہت ہوا 

دیکھا اسے تو چاندنی جیسے لہو میں گھل گئی

آنکھ سے دل کا فاصلہ، خواب نما بہت ہوا

پہلے تو موج لے گئی مجھ کو بہا کے دور تک

ڈوب گیا تو دیر تک، رقصِ ہَوا بہت ہوا

گیسُوئے شن جو تا بہ دل آئے تو آنکھ لگ گئی

جلوۂ ماہتاب بھی، رنج رُبا بہت ہوا

ڈھونڈیں گے درد ہی میں اب شکل کوئی قرار کی

اے دلِ رنج آشنا! تیرا کہا بہت ہوا


ڈاکٹر توصیف تبسم

No comments:

Post a Comment