Sunday, 1 January 2017

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیﷺ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہی تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو
جلتے ہیں جبرئیل کے پر جس مقام پر 
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو
جو ماسوا کی حد سے بھی آگے گزر گیا
اے رہ نوردِ جادۂ اسریٰ تمہی تو ہو
گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدارِ یثرب و بطحا! تمہی تو ہو
جو دستگیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے
جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو
دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو

مولانا ظفر علی خان

No comments:

Post a Comment