Friday, 13 January 2017

اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے

اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے
جا چکا وہ تو فیصلہ کر کے
حکم کر کے کہ التجا کر کے
تجھے چھوڑوں گا با وفا کر کے
کچھ نہیں ہے تو تجربہ ہی سہی
دیکھ ہی لے کبھی وفا کر کے
اتنی جلدی قبولیت ہو گی
ابھی بیٹھا تھا میں دعا کر کے
کتنے مومن نما لٹیرے ہیں
لوٹتے ہیں خدا خدا کر کے
کاسۂ دل میں دل تو لے جاؤ
جا رہے ہو کہاں صدا کر کے
لڑکھڑاتے ہیں کیوں قدم اتنے
آ رہے ہو عدؔیم کیا کر کے

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment