اب کرو گے بھی کیا وفا کر کے
جا چکا وہ تو فیصلہ کر کے
حکم کر کے کہ التجا کر کے
تجھے چھوڑوں گا با وفا کر کے
کچھ نہیں ہے تو تجربہ ہی سہی
اتنی جلدی قبولیت ہو گی
ابھی بیٹھا تھا میں دعا کر کے
کتنے مومن نما لٹیرے ہیں
لوٹتے ہیں خدا خدا کر کے
کاسۂ دل میں دل تو لے جاؤ
جا رہے ہو کہاں صدا کر کے
لڑکھڑاتے ہیں کیوں قدم اتنے
آ رہے ہو عدؔیم کیا کر کے
عدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment