شہر میں اب کوئی دیوانہ رہا ہو کہ نہ ہو
مرگِ انبوہ تو ہے، جشن بپا ہو کہ نہ ہو
شورِ مستاں تو بہت ہے مگر اس فصل میں بھی
ہاتھ اٹھیں یا نہ اٹھیں، چاک قبا ہو کہ نہ ہو
یادِ یاراں بہت آتی ہے، مگر سوچتے ہیں
دل کو سوجھا تو ہے مضموں تِری خوش قامتی کا
ہم سے کوتاہ بیانوں سے ادا ہو کہ نہ ہو
شکر کر اے دلِ احسان فراموش! کہ تُو
درخورِ رنجشِ بے جا بھی رہا ہو کہ نہ ہو
آخری تیر شکاری کا مِری گھات میں ہے
پھر مِرے بعد کوئی نغمہ سرا ہو کہ نہ ہو
احمد فراز
No comments:
Post a Comment