Sunday, 1 January 2017

مثال برگ خزاں سوگوار بیٹھا ہوں

مثالِ برگِ خزاں سوگوار بیٹھا ہوں
میں تیرے قرب کا موسم گزار بیٹھا ہوں
یہی تو دکھ ہے تِرے کام بھی نہیں آئی
جو زندگی تِری خاطر گزار بیٹھا ہوں
اور اب تو خاک سے باہر ہیں کونپلیں میری
جو وقت مجھ پہ کڑا تھا گزار بیٹھا ہوں
مِرے خیال کی صورت بگڑ گئی ہے کبیرؔ
میں اپنے شعر کو اتنا سنوار بیٹھا ہوں

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment