Friday, 13 January 2017

اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو

اب برسوں بعد ملے ہو تو کچھ اپنا حال احوال کہو 
کہو کیسے ہجر کی رات کٹی اور کتنے ملے ہیں ملال کہو
کیا ہجر کا دکھ زندہ ہے ابھی کسی آتے جاتے موسم میں
یا ماضی کا قصہ ٹھہرا ہے آج وہ عہدِ وصال کہو
مرے بام و در میں سجا ہوا چہرہ بھی وہی آنکھیں بھی وہی 
کیا بدل گئے ہیں تمہاری طرف اب سارے خد وخال کہو
اس دل کے سہارے کاٹا ہے اب تک کا سفر یہ مسافر نے 
ورنہ کیسے کٹتے سوچو مشکل کے یہ ماہ اور سال کہو
تری یاد کی دھوپ میں جلتے اور چلتے ہی رہے جو رستے میں 
کبھی ان تنہا لوگوں کا بھی تمہیں آیا ہے کوئی خیال کہو 
تج ڈالا تمہاری خواہش میں شاہیؔن اپنی ہر خواہش کو 
بھلا ہم جیسے دیوانوں کی کہیں ملے گی کوئی مثال کہو

نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment