Friday, 13 January 2017

زمیں کے پار زمانوں کے پار جانا ہے

زمیں کے پار، زمانوں کے پار جانا ہے
مجھے تمہارے جہانوں کے پار جانا ہے
یقیں کے گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہوں روکنا مت
کہ میں نے آج گمانوں کے پار جانا ہے
ازل سےتاک میں بیٹھے ہوئے پیادے نے
تیری بساط کے خانوں کے پار جانا ہے
میں کھودتا ہی چلا جا رہا ہوں مٹی کو
مجھے زمیں کے خزانوں کے پار جانا ہے
پھڑک رہی ہے رگِ جستجو دماغ کی بیچ 
نظر نے دِیں کے فسانوں ک پار جانا ہے
ہٹاؤ عرش میرے راستے سے آج رضاؔ
مجھے ازل کے نشانوں کے پار جانا ہے

رضا نقوی

No comments:

Post a Comment