کوئی ٹکرا کے سُبک سر بھی تو ہو سکتا ہے
میری تعمیر میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے
کیوں نہ اے شخص تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں
تُو مِرے وہم سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے
تُو ہی تُو ہے تو پھر اب جملہ جمالِ دنیا
یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے
شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے
پیڑ کے ہاتھ میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہو میری
میرا کھِلنا مِرے اندر بھی تو ہو سکتا ہے
یہ جو ہے ریت کا ٹیلہ مِرے قدموں کے تلے
کوئی دم میں مِرے اوپر بھی تو ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابشؔ
عشق کا کھیل برابر بھی تو ہو سکتا ہے
عباس تابش
No comments:
Post a Comment