Friday, 24 July 2020

اسے ٹھکانہ ملا ہے نہ ہم ٹھکانے لگے

وہ ہونٹ جو کسی سازش کے تانے بانے لگے
"جواب بن نہیں پایا،۔ تو مسکرانے لگے"
مؤرخین بتاتے ہیں، دو دلوں سے اٹھی
ہمیں جو آگ بجھاتے ہوئے زمانے لگے
ہمارے عہد میں اک علم ہے معیشت بھی
ہمارے عہد کے سقراط بھی کمانے لگے
ہمارا اس سے بچھڑنا بھی رائیگاں ہی گیا
اسے ٹھکانہ ملا ہے، نہ ہم ٹھکانے لگے
گلی میں رات اچانک ہی چند سائے اٹھے
اور اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے
کمند جن کو ستاروں پہ ڈالنی تھی راز
وہ سر پھرے تو زمیں پر دِیے بجھانے لگے

راز احتشام

No comments:

Post a Comment