Saturday, 25 July 2020

تیرے ہونٹوں کے تبسم کا طلب گار ہوں میں

تیرے ہونٹوں کے تبسم کا طلبگار ہوں میں
اپنے غم بیچ دے، ردی کا خریدار ہوں میں
میری حالت پہ تکبر نہیں، افسوس بھی کر
تیرا عاشق نہیں جاناں! تِرا بیمار ہوں میں
کل تِری ہوش ربائی سے ہوا تھا آزاد
آج پھر اک نئے جادو میں گرفتار ہوں میں
ان دنوں یوں کہ تِرا عشق گراں ہے مجھ پر
بے دلی ایسی کے اپنے سے ہی بیزار ہوں میں
میرے ہر غم کی کفالت بھی مِرا ذمہ ہے
اپنے غم خانۂ ہستی کا 'عزادار' ہوں میں
ہنستے ہنستے مِری آنکھوں میں نمی آ گئی ہے
تُو نے دیکھا نہیں کس درجہ اداکار ہوں میں

محشر آفریدی

No comments:

Post a Comment