Saturday, 25 July 2020

وہ مقام دل و جاں کیا ہو گا

وہ مقامِ دل و جاں کیا ہو گا
تو جہاں آخری "پردا" ہو گا
منزلیں "راستہ" بن جاتی ہیں
ڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہو گا
سائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیں
کون اس دھوپ میں چلتا ہو گا
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہو گا
ابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریں
آئینہ اور بھی دھندلا ہو گا
راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھ لے گا وہ تنہا ہو گا
اس طرح قطع تعلق نہ کرو
اس طرح اور بھی چرچا ہو گا
بعد مدت کے چلے دیوانے
کیا تِرے شہر کا نقشا ہو گا
سب کا منہ تکتے ہیں یوں ہم جیسے
کوئی تو بات سمجھتا ہو گا
پھول یہ سوچ کے کھل اٹھتے ہیں
کوئی تو دیدۂ بینا ہو گا
خود سے ہم دور نکل آئے ہیں
تیرے ملنے سے بھی اب کیا ہو گا
ہم ترا راستہ تکتے ہوں گے
اور تُو سامنے بیٹھا ہو گا
خود کو یاد آنے لگے ہم باقی
پھر کسی بات پہ جھگڑا ہو گا

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment