دل اس طرح سپردِ صنم کر دیا گیا
قطرے کو جیسے بحر میں ضم کر دیا گیا
پھر کیا رہے گی دامنِ ہستی میں دلکشی
منفی اگر حیات سے غم کر دیا گیا
لکھ کر نہیں کا لفظ لفافے کی پشت پر
اب کيا کسی حسین کو تحفے کے طور دیں
دل تھا سو وہ بھی وقفِ الم کر دیا گیا
غزنی سجا کے یاد کو سینے کے طاق میں
💢سوزِ غمِ فراق کو کم کر دیا گیا💢
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment