Sunday, 20 September 2020

مرے دل بیچ نقش نازنیں ہے

 مِرے دل بیچ نقش نازنیں ہے

مگر یہ دل نہیں یارو نگیں ہے

کمر پر تیری اس کا دل ہوا محو

تِرا عاشق بہت باریک بیں ہے

جو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک

پری ہے، حور ہے، روح الامیں ہے

غلام اس کے ہیں سارے اب سریجن

نگر میں حسن کے کرسی نشیں ہے

نہیں اب جگ میں ویسا اور پیتم

سبی خوش صورتاں سوں نازنیں ہے

مجھے ہے موشگافی میں مہارت

جو نت دل محوِ خطِ عنبریں ہے

نظر کر لطف  کی اے شاہِ خوباں

تِرا فائز غلامِ کم تریں ہے


فائز دہلوی

No comments:

Post a Comment