Saturday, 19 September 2020

رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں

 رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں

یہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں

نگاہوں میں ہے زنجیر محبت

تِری زلف دوتا ہے اور میں ہوں

شب آخر فضائے دل میں پھیلی

خموشی کی ردا ہے اور میں ہوں

نظر میں ہے کوئی خوں ریز منظر

کوئی زخمی صدا ہے اور میں ہوں

خدا ہی جانے ہونے والا کیا ہے

تِری قاتل ادا ہے اور میں ہوں

مجھے کیا لینا دینا ہے جہاں سے

خیال دلربا ہے اور میں ہوں


مینو بخشی

No comments:

Post a Comment