یہ جو ہم آس لگا تار لگائے ہوئے ہیں
سر سے گرتی ہوئی دیوار لگائے ہوئے ہیں
گاؤں میں چھوڑا نہیں ایک پرندہ تم نے
پھر سبھی پیڑ تو بے کار لگائے ہوئے ہیں
ایک دو ٹوٹ بھی جائیں تو کوئی بات نہیں
آنکھ میں خوابوں کے انبار لگائے ہوئے ہیں
آستاں والے! ترے شان کرم کے صدقے
تُو نے سینے سے گنہگار لگائے ہوئے ہیں
اچھی کردار کشی کرتے ہیں میرے پیچھے
لوگ تو سارے سمجھدار لگائے ہوئے ہیں
نائلہ جانے کہاں جاؤں گی بل کھاتے ہوئے
راستے پاؤں سے دشوار لگائے ہوئے ہیں
نائلہ ملک
No comments:
Post a Comment