Saturday, 21 November 2020

یہ جو ہم آس لگاتار لگائے ہوئے ہیں

 یہ جو ہم آس لگا تار لگائے ہوئے ہیں

سر سے گرتی ہوئی دیوار لگائے ہوئے ہیں

گاؤں میں چھوڑا نہیں ایک پرندہ تم نے

پھر سبھی پیڑ تو بے کار لگائے ہوئے ہیں

ایک دو ٹوٹ بھی جائیں تو کوئی بات نہیں

آنکھ میں خوابوں کے انبار لگائے ہوئے ہیں

آستاں والے! ترے شان کرم کے صدقے

تُو نے سینے سے گنہگار لگائے ہوئے ہیں

اچھی کردار کشی کرتے ہیں میرے پیچھے

لوگ تو سارے سمجھدار لگائے ہوئے ہیں

نائلہ جانے کہاں جاؤں گی بل کھاتے ہوئے

راستے پاؤں سے دشوار لگائے ہوئے ہیں


نائلہ ملک

No comments:

Post a Comment