Sunday, 22 November 2020

ابھی یہ درد ہے اور لا دوا ہرگز نہیں ہے

 ابھی یہ درد ہے

اور لا دوا ہرگز نہیں ہے

مگر یہ عین ممکن ہے

دوا کے آتے آتے

روگ میں تبدیل ہو جائے

اگر یہ روگ میں تبدیل ہوتا ہے

تو پھر شاید یہ اپنا مرکزہ تبدیل کر لے

اور چپکے سے

بدن کو چھوڑ دے

اور روح کو مسکن بنا لے

یہ انہونی نہیں ہے

درد جب اپنی حدوں سے بڑھنے لگتے ہیں

تو اپنا مرکزہ تبدیل کرتے ہیں

وہ سارے درد جن کو

کوئی چارہ گر نہیں ملتا

بدن اور روح کی ہر شاخ پر

آکاس بیلیں چھوڑ جاتے ہیں

یہ انہونی نہیں ہے


یوسف خالد

No comments:

Post a Comment