ابھی یہ درد ہے
اور لا دوا ہرگز نہیں ہے
مگر یہ عین ممکن ہے
دوا کے آتے آتے
روگ میں تبدیل ہو جائے
اگر یہ روگ میں تبدیل ہوتا ہے
تو پھر شاید یہ اپنا مرکزہ تبدیل کر لے
اور چپکے سے
بدن کو چھوڑ دے
اور روح کو مسکن بنا لے
یہ انہونی نہیں ہے
درد جب اپنی حدوں سے بڑھنے لگتے ہیں
تو اپنا مرکزہ تبدیل کرتے ہیں
وہ سارے درد جن کو
کوئی چارہ گر نہیں ملتا
بدن اور روح کی ہر شاخ پر
آکاس بیلیں چھوڑ جاتے ہیں
یہ انہونی نہیں ہے
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment