ایک طمانچہ روایات کی دھول سے اٹے چہروں پہ
میں انہماک سے پوچھتی ہوں
اماں! تُو دن بھر چولہا چوکھٹ کرتی ہے
شام کو پھر ابا کی دھتکار بھی سہتی ہے
چپ کے آنگن میں گنگ نیر بہاتی ہے
اپنے حق میں کیوں لب نہیں کھولتی ہے؟
اماں میرا بیاہ نہ کرنا کبھی
مِرے ہاتھ چومتی اماں روہانسی ہو کر کہتی ہے
دھی رانی! بی اے پاس کر لے
یہ سیاہی تِرے بخت میں نئیں ہو گی
ماہم ارشد
No comments:
Post a Comment