Saturday, 21 November 2020

ٹوٹتے وقت ستارے بھلا کب روتے ہیں

 ٹوٹتے وقت ستارے بھلا کب روتے ہیں

خاک زادے ہی مقدر کے سبب روتے ہیں

قوتِ نطق و بصارت بھی ترے ساتھ گئی

آنکھ بینائی کو، آواز کو لب روتے ہیں

وقت سنگیت کو نوحے میں بدل دیتا ہے

پہلے ہم لوگ ہنسا کرتے تھے، اب روتے ہیں

شہرِِ غرقاب کے قصے میں کہیں لکھا تھا

جہاں کوئی نہیں روتا، وہاں سب روتے ہیں

یہ وہ غم ہے جو کسی ایک سے منسوب نہیں

آلِ احمد کے گھرانے کو نسب روتے ہیں

وہ بھی تاریخ تھی فریادی تھے جب اہلِ عجم

یہ بھی تاریخ ہے سب اہلِ عرب روتے ہیں

کتنے معصوم ہیں احساس سے نا واقف لوگ

بہرِ غم ہنستے ہیں اور بہرِ طرب روتے ہیں

وہ بھی آنکھوں سے لہو روک نہیں پاتا علی

ہم بھی رخسار بھگوتے ہیں، غضب روتے ہیں


علی شیران

No comments:

Post a Comment