نابلد نظم
تم نے نہیں دیکھا
کہ تمہاری بے التفاتی نے
تکلفات کو جنم دے دیا
تم نے نہیں سوچا
کہ تمہاری خاموشی نے
مجھے نظم در نظم عطا کی
تمہارے نابلد شکوؤں نے
آگ کو تپش اور
خام کو کندن کر دیا
تمہاری ہنسی نے
پھولوں کو دریا کا رستہ دیا
دریاؤں کے بند
زیادہ دیر رکتے نہیں
(خشک پتیوں کی بات یہاں نہیں ہو رہی)
تمہارا التفات
گناہ
اور بے رخی جہنم ہے
تمہاری محبت نے مجھے
التباس کے سرخ کناروں سے تاک لیا ہے
اور اب اقرار کے جرمن شیفرڈز
تمہاری اداؤں کے جنگل میں
ملتفت ثبوت ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہانپ چکے ہیں
فاطمہ مہرو
No comments:
Post a Comment