یہ دوست ہونے کے ناطے سے مشورہ ہے مرا
اسے بھلا دے کہ اس پر دل آ گیا ہے مرا
تو کیا برائی ہے اب اس کو آزمانے میں
کہ اعتبار تو ویسے بھی اٹھ گیا ہے مرا
کچھ اس لیے میں تجھے وقت اب نہیں دیتا
مجھے گماں ہے برا وقت چل رہا ہے مرا
لڑی میں کیسے پروتا ہوں موتیوں کو میں
دیا بجھا دے اگر کام دیکھنا ہے مرا
کسی کومیں نے بھی آخر جواب دینا ہے
مجھے بتاؤ مرے دوست کیا کیا ہے مرا
گئے دنوں میں یہ دنیا مری پہنچ میں نہ تھی
پر آج کل کئی لوگوں سے رابطہ ہے مرا
مجھے یہ ڈر ہے کہ الٹا نہ چلنے لگ جائے
ترے بچھڑنے سے جو وقت بچ گیا ہے مرا
شاہد نواز
No comments:
Post a Comment