کسی نے کر لیا عہدِ وفا معلوم ہوتا ہے
ہوا ہے درد اپنی خود دوا معلوم ہوتا ہے
وہی یادیں ہیں لیکن کیفیت ہے دوسری دل کی
وہی ہے درد بھی لیکن جدا معلوم ہوتا ہے
تِری یادوں سے تنہائی میں تسکیں دل کو ہوتی ہے
دیا ہے درد ایسا جو دوا معلوم ہوتا ہے
مقابل آتے ہی ان کی وہ آنکھیں ڈبڈبائی سی
مجھے اب عہد و پیماں ٹوٹتا معلوم ہوتا ہے
پریشاں درد تیرا ہو گیا دل میں مِرے آ کر
مکاں میں یہ مکیں شاید نیا معلوم ہوتا ہے
نہ کوئی ذکر ہے تیرا نہ تیرا نام ہے لب پر
مگر مشکل میں یہ دل مبتلا معلوم ہوتا ہے
وہی یادیں ہیں لیکن دل شگفتہ اب نہیں ہوتا
وہی ہے ساز لیکن بے صدا معلوم ہوتا ہے
وہی تابانیاں اشرف ہیں تیرے عزم کی اب بھی
بظاہر حرف ہے تو اور مٹا معلوم ہوتا ہے
اشرف باقری
No comments:
Post a Comment