میرے سر آنکھوں پہ اے دوست ترا یہ ارشاد
کچھ بھی ہو زندہ رہو، شاد رہو یا ناشاد
نقش بن جاتی ہے ٹوٹے ہوئے تارے کی طرح
جب بھی پردیس میں آتی ہے مجھے دیس کی یاد
ان میں تو خونِ چمن ساز رواں تھا کل تک
آج جن ہاتھوں سے ہوتا ہے گلستاں برباد
دوستی جب بھی پرکھنے کی حدوں تک پہنچی
پڑ گئی ترکِ تعلق کی وہیں سے بنیاد
ٹوٹ کر جیسے کبھی پھول نہیں جڑتا ہے
ویسے اجڑا ہوا دل💔 بھی نہیں ہوتا آباد
اس کی قسمت میں تغافل سی بھی نعمت نہ رہی
جو تری چشمِ عنایت سے ہوا ہے برباد
سحاب قزلباش
No comments:
Post a Comment