فطرتِ عشق کسی رنگ میں شامل نہ ہوئی
یہ صدا وہ ہے جو پابند سلاسل نہ ہوئی
ہم نے کیا کیا نہ کیا دل کی تسلی کے لیے
اور تسلی ہے کہ خوابوں میں بھی حاصل نہ ہوئی
کوششیں لاکھ ہوئیں دل کی فضا دل سے ملے
یہ زمیں آج تک اس رسم کے قابل نہ ہوئی
حادثے دل پہ گزرنے کو نہ کیا کیا گزرے
تشنگی آج تک آسودۂ ساحل نہ ہوئی
آپ کی چشمِ توجہ کا گِلہ کیا کیجے
پر تردد ہی رہی حل مِری مشکل نہ ہوئی
نا خدائی کا بہت شور سنا تھا، لیکن
زندگی میری ابھی تک لب ساحل نہ ہوئی
حامد اس عہد سے کیا کیا نہ توقع تھی مگر
زندگی رسم و رہ زیست میں داخل نہ ہوئی
حامد الہ آبادی
No comments:
Post a Comment