بوسۂ زلفِ سیاہ فام ملے گا کہ نہیں
دل کا سودا ہے مجھے دام ملے گا کہ نہیں
خط میں کیا لکھا ہے، قاصد کو خبر کیا اس کی
پوچھتا ہے، مجھے انعام ملے گا کہ نہیں
میں تِری مست نظر کا ہوں دعا گو، ساقی
صدقہ آنکھوں کا کوئی جام ملے گا کہ نہیں
قبر پر فاتحہ پڑھنے کو نہ آئیں گے وہ کیا
جان دینے کا کچھ انعام ملے گا کہ نہیں
بُو کسی سمت سے آتی نہیں ہمدردی کی
مجھ کو، مجھ سا کوئی ناکام ملے گا کہ نہیں
جستجو ہی میں وہ لذت ہے کہ، اللہ اللہ
کیوں میں پوچھوں، وہ دِلآرام ملے گا کہ نہیں
آرزو مرگ کی تم کرتے ہو اکبر، لیکن
سوچ لو، قبر میں آرام ملے گا کہ نہیں
اکبر الہ آبادی
No comments:
Post a Comment