Wednesday, 2 December 2020

کس یاس سے مرے ہیں مریض انتظار کے

کس یاس سے مرے ہیں مرِیض انتظار کے

قاتِل کو یاد کر کے قضا کو پُکار کے

مَقتَل میں حال پُوچھو نہ مُجھ بے قرار کے

تُم اپنے گھر کو جاؤ چُھری پھیر پھار کے

رُکتی نہیں ہے گرِدشِ ایّام کی ہنسی

لے آنا طاق سے مِرا ساغر اُتار کے

جی ہاں شراب خور ہیں ہم تو جنابِ شیخ

بندے بس ایک آپ ہیں پَروَردِگار کے

لِکھّا ہُوا جہاں تھا مُقدَّر میں ڈُوبنا

کشتی کو مَوج لائی وہِیں گھیر گھار کے

صیّاد تیرے حُکمِ رہائی کا شُکرِیَہ

ہم تو قَفَس میں کاٹ چُکے دِن بہار کے 

ہم اُن سے بات کر نہ سکے بزمِ غیر میں

شوقِ کلام رہ گیا دِل مار مار کے

بِجلی کبھی گِری کبھی صیّاد آ گیا

ہم نے تو چار دِن بھی نہ دیکھے بہار کے

کِتنی طوِیل ہوتی ہے اِنساں کی زِندَگی

سمجھا ہُوں آج میں شبِ فُرقت گُزار کے

میّت قمر کی دیکھ کے بولے وہ صُبحِ ہِجر

تارے گِنے گئے نہ شبِ اِنتظار کے


قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment