وہ چاہے جو بھی ہو جیسا بھی ہو جہاں کا ہو
کسی کو عشق ہو ہم سے تو بے تحاشا ہو
تِرے سوا ہمیں کوئی سمجھ نہیں سکتا
سو ہم کو ضد ہے کہ ہر شخص تیرے جیسا ہو
میں جانتا ہوں کہ تجھ کو حسین سمجھے گا
وہ شخص جس نے تجھے غور سے نہ دیکھا ہو
وہ رات جس کی طرف میں پلٹ کے دیکھتا ہوں
نہ جانے کب مجھے اسی کی سمت جانا ہو
تصنیف حیدر
No comments:
Post a Comment