Thursday, 14 January 2021

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

 طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

میرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ

وہ کہہ رہا ہے کہ لاؤں گا گھر میں سوتن کو

پلا رہا ہے وہ آبِ حیات زہر کے ساتھ

میں اس لیے یہاں آتی ہوں تم جو رہتے ہو

مجھے ہے اتنا تعلق تمہارے شہر کے ساتھ

بازار جانے کی جلدی نہ جانے کون سی تھی

مجھے جو لے نہ گئے وہ ذرا سا ٹھہر کے ساتھ

میں جا کے ان کو اٹھا لائی اس کی محفل سے

وہ دیکھتی رہی مجھ کو نگاہِ قہر کے ساتھ


ساجد سجنی لکھنوی


مجموعہ کلام نگوڑیات

No comments:

Post a Comment