Saturday, 16 January 2021

دریا کو شعلگی سے سجانا پڑا تو پھر

 دریا کو شعلگی سے سجانا پڑا تو پھر؟

آنکھوں پہ دل کی آگ کو لانا پڑا تو پھر

طغیانیوں کی سمت نہ اتنا دھکیلئے

مجھ کو کسی غرض سے بلانا پڑا تو پھر

بیٹا یہ روشنی تجھے ورثے میں دوں مگر

تجھ کو بھی ہر چراغ بچانا پڑا تو پھر

گھر بار کی فضا میں اڑانیں نہ ضبط کر

انِ بیٹیوں کو رزق کمانا پڑا تو پھر

غزلیں مشاعروں میں پڑھو تم خرید کر

لیکن یہ فن کسی کو سکھانا پڑا تو پھر

بکھری پڑی ہیں کتنی محبت کی فائلیں

ہم کو یہ سارا کام ٭"مُکانا" پڑا تو پھر

دعوے حسینیت کے بہت کر رہے ہو تم

صحرا میں کوئی خیمہ لگانا پڑا تو پھر

محشر میں جب سوال ہوا بیوفا تھا کون

مجھ کو تمہارا نام بتانا پڑا تو پھر

کیوں بیچ ڈالے گاؤں کے سارے درخت دوست

مُڑ کر اِنہی کی چھاؤں میں آنا پڑا تو پھر

بے شک نوید نیند کی کھڑکی کھلی نہ رکھ

خوابوں کو جب بھی شور مچانا پڑا تو پھر


نوید ملک


٭مُکانا (پنجابی) معنی ختم کرنا

No comments:

Post a Comment