دھوپ سے چاندنی بناتا ہوں
آنسوؤں سے ہنسی بناتا ہوں
رات کی کھینچتا ہوں تصویریں
چاند سے شاعری بناتا ہوں
اور اس ہجر کے سمندر میں
وصل کی جل پری بناتا ہوں
کر رہا ہوں میں ایک پھول پہ کام
روز اک پنکھڑی بناتا ہوں
میں وہ پاگل ہوں جاتے لمحے سے
آنے والی صدی بناتا ہوں
پوچھتے کیا ہو اپنے آپ کو میں
روز ہی آدمی بناتا ہوں
مجھ سے شکوہ تو ایسے کرتے ہو
جیسے، میں زندگی بناتا ہوں
برسوں پہلے بنا رہا تھا جو شے
میں تو اب تک وہی بناتا ہوں
اکبر معصوم
No comments:
Post a Comment