اک محافظ
جس کا عشق دلوں پہ نافذ
اک محافظ
سینے پر میقات
دو آنکھیں ہیں پاس ہمارے
دونوں میں تیری نعت
گونج رہی ہو
میرے اندر گونج رہی ہو
پچھلے جنم میں
شاید کوئی کونج رہی ہو
دن چڑھتا ہے
جب جوبن میں رس پڑتا ہے
دن چڑھتا ہے
کسی کے کاغذی پیکر پر عامر
خدا کے بعد میرے دستخط ہیں
ہانپ رہی ہو
دل اندر دل کانپ رہی ہو
ہانپ رہی ہو
عامر سہیل
No comments:
Post a Comment