ہم مزاجی کسی کو بھائی ہے؟
اپنا انجام بھی جدائی ہے
تم نے بس کہہ دیا محبت ہے
ہم نے کی اور پھر نبھائی ہے
کب میسر ہے ساتھ تیرا مجھے
اک تسلسل سے نارسائی ہے
عیب سارے ہی شب چھپائے گی
یہ صفت اس میں کِبریائی ہے
میری آنکھوں کے گرد حلقے ہیں
رَت جگوں کی یہ کاروائی ہے
اس نے چاہا کہ جانا جاؤں میں
یہ بھی اک رمزِ خود نمائی ہے
ہاتھ پکڑا تو ہے؛ بتا پہلے
کیا تجھے اذنِ رہنمائی ہے؟
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment