Thursday, 14 January 2021

مجھے عدو کے قبیلے کا فرد کیا جانے

 مجھے عدو کے قبیلے کا فرد کیا جانے

مِرا رقیب مِرے دِل کا درد کیا جانے

مجھے عبث ہے توقع وفا کی ظالم سے

خمارِ ابرِنمو، برگِ زرد کیا جانے

بگولے ششدر و حیران ہو کے پھرتے ہیں

جنوں کے کرب کو صحرا کی گرد کیا جانے

بس اس کو دوستو! امرت سمجھ کے پی جاؤ

سرورِ بادہ لہو سرد سرد کیا جانے

ہزار بار گنوائی ہے آبرو ناطق

فریبِ زن کو غریب ایک مرد کیا جانے


ناطق جعفری

No comments:

Post a Comment