سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا
ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا
یوں تو ہم اہلِ جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیں
گمراہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا
میگساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہے
تشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا
کتنی روشن ہیں سمندر کی چمکتی راتیں
ڈوبتی لہروں کا انجام کبھی لکھ لینا
بھوت خوابوں میں فرشتے سے نظر آتے ہیں
ذہن میں اپنے یہ اوہام کبھی لکھ لینا
توڑ کے کتنی چٹانوں کو نکل آئے ہیں
سارے جذبے ہیں مگر خام کبھی لکھ لینا
بِک رہا ہے سرِ بازار ہر اک دانشور
ہم سے آوارہ کے کچھ دام کبھی لکھ لینا
جرم کوئی نہیں باقر کو رہا مت کرنا
کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کے الزام کبھی لکھ لینا
باقر مہدی
No comments:
Post a Comment