Monday, 1 March 2021

ہر طرف دھوپ ہے مگر کوئی

ہر طرف دُھوپ ہے مگر کوئی

راستے میں نہیں شجر کوئی

زندگی کی طویل راہوں میں

ہم نے پایا نہ ہم سفر کوئی

مجھ کو ہنسنے کبھی نہیں دیتا

میرے اندر ہے ایسا ڈر کوئی

کارِ دُنیا کہ کارِ عشق ہو دوست

کام آیا نہیں ہُنر کوئی

دے گیا زخم عمر بھر کے لیے

بن کے آیا تھا چارہ گر کوئی

منزلوں پر رشی پہنچ جاتی

مل سکا پر نہ راہبر کوئی


راشدہ حیدر رشی

No comments:

Post a Comment