Friday, 26 March 2021

مردہ خانوں میں رکھے لاشوں پر

 نامعلوم


مُردہ خانوں میں رکھے لاشوں پر

پرچیاں چسپاں کرنے والو

پرچیوں پر لفظ نامعلوم کیوں لکھتے ہو تم

کیوں چھُپاتے ہو سبھی سے

یہ غریب لوگ ہیں

بھوک کے مارے ہوئے ہیں

سردیوں کی راتوں میں

جسموں کو یہ

ڈھانپتے ہیں آگ سے

اور اپنے حصے کے

مخملیں کمبل تمام

دان کر جاتے ہیں یہ

بادشاہِ وقت کو

نیند سے جگائے کون

محل میں لٹکی ہوئی

زنجیر کو ہلائے کون

کوئی ہو مردِ خدا جو

بادشاہِ وقت کو

بات یہ بتائے کہ

یہ غریب لوگ ہیں

بھوک کے مارے ہوئے

ان کی یہی پہچان ہے

یہ دان دیتے ہیں

بادشاہِ وقت کو

اک اٹُوٹ رشتہ ہے

بادشاہِ وقت کا

اس حسین کمبل سے

اور یہ جلتے بدن

پہچان پاکستان کی

مت لکھ لاشوں پہ ان کے

لفظ نامعلوم تم


قیصر وجدی

No comments:

Post a Comment