زوال صبح ہوں تحریر کر لے
مِری بے چارگی تصویر کر لے
جو میرے ساتھ دم گھُٹتا ہے تیرا
الگ اپنا جہاں تعمیر کر لے
میں سچ ہوں جگ اجاگر ہی رہوں گا
تُو اپنے جھوٹ کی تشہیر کر لے
کہاں وہ سُورما پیدا ہوا جو
انا میری تہِ شمشیر کر لے
میں اس آوارگی سے تھک چکا ہوں
کوئی آئے مجھے زنجیر کر لے
نمودِ صبح کب روکے رکی ہے
اندھیرا چاہے جو تدبیر کر لے
رہوں کب تک حریفِ آب بن کر
سمندر آ، مجھے تسخیر کر لے
طلب لکھے گا خود اپنا مقدر
جو تجھ سے بن پڑے تقدیر، کر لے
خورشید طلب
No comments:
Post a Comment