Thursday, 1 April 2021

خواب جو اچھے برے تھے

 خواب جو اچھے بُرے تھے 

میرے اندر پَل رہے تھے 

ایک چُپی تم نے چاہی 

میں نے اپنے لب سیے تھے 

آزمائش وقت نے کی 

سب یقیں ٹُوٹے پڑے تھے 

عمر بھر چل کر نہ پہنچے 

جانے کیسے مرحلے تھے 

نیند آنکھوں سے جدا تھی 

خواب میں بھی رتجگے تھے


پوجا بھاٹیہ

No comments:

Post a Comment