خوفِ خدا
اس دل کا کیا کروں، جسے خوفِ خدا نہ ہو
وہ علم کیا کروں جس سے حاصل نفع نہ ہو
وہ نفس کیا کروں جسے حاصل نہیں سیری
مقبولیت نہ پا سکے، ایسی دعا نہ ہو
عاجز ہو جائیں تیرے سوا اور کے آگے
وہ حال کر کہ عجز میں یوں مبتلا نہ ہو
ایسی بزرگی اور بڑھاپے کا کیا کروں
جس میں نصیب تیرے کرم کی عطا نہ ہو
سو نعمتیں و رحمتیں بخشی گئیں ہمیں
کیا فائدہ کہ کوئی نفع، با وفا نہ ہو
تقویٰ عطا کیا نہ اگر میرے نفس کو
گویا کہ نفس بار جو تقویٰ عطا نہ ہو
جتنی گزر گئی ہے اسے معاف کر کے اب
یا رب یہ التجا ہے کہ کوئی خطا نہ ہو
ممتاز رب سے پاک بھلا کوئی ذات ہے
وہ بد نصیب جس کا کوئی آسرا نہ ہو
ممتاز ملک
No comments:
Post a Comment