زیاں ہو عشق میں اب یا ہو سُود بے معنی
جو ہو گیا ہے مِرا ہی وجود بے معنی
تُو مل گیا ہے تو پھر اور کیا نہیں پایا
مِرا وجود تِرے باوجود بے معنی
بس ایک ناں ہی تو وجہِ عذاب ٹھہری تھی
کسی کے ہو گئے سارے سجود بے معنی
شبِ وصال اسے دیکھنے میں بِیت گئی
رہے خیال کے سارے وفود بے معنی
بعید ہو کے بھی وہ دل سے رابطے رکھیں
ہیں عاشقوں پہ یہ ساری حدود بے معنی
نعیم عباس ساجد
No comments:
Post a Comment